پیر 2 نومبر 2026 - 17:28
نمائندہ ولی فقیہ ہند کی امارتِ شرعیہ پٹنہ آمد؛رہبرِ معظم کی شہادت نے مسلمانوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا، مقررین

حوزہ/نمائندہ ولی فقیہ ہند حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حکیم مجید الٰہی نے گزشتہ دنوں امارتِ شرعیہ پٹنہ کا دورہ کیا، جہاں ناظمِ امارتِ شرعیہ مولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن نے نہایت خلوص و محبت کے ساتھ اپنے معزز مہمان کا خیرمقدم اور گلدستہ سے استقبال کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نمائندہ ولی فقیہ ہند حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حکیم مجید الٰہی نے گزشتہ دنوں امارتِ شرعیہ پٹنہ کا دورہ کیا، جہاں ناظمِ امارتِ شرعیہ مولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن نے نہایت خلوص و محبت کے ساتھ اپنے معزز مہمان کا خیرمقدم اور گلدستہ سے استقبال کیا۔

نمائندہ ولی فقیہ ہند کی امارتِ شرعیہ پٹنہ آمد؛رہبرِ معظم کی شہادت نے مسلمانوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا، مقررین

بعد ازاں نائب ناظمِ امارتِ شرعیہ مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی نے امارتِ شرعیہ کے مختلف امور اور خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

اس موقع پر نمائندہ ولی فقیہ ہند حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حکیم مجید الٰہی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اور انجینئر بننا آسان ہے، لیکن مفتی اور عالم بننا مشکل ہے۔ امارتِ شرعیہ وہ بنیادی امور انجام دے رہی ہے جو اسلام کی اساس ہیں۔ اس کے ساتھ ملتِ اسلامیہ میں اتحاد کی فضا ہموار کرنا بھی ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ امارتِ شرعیہ کی خدمات کی جتنی بھی تعریف کی جائے، کم ہے۔ آج اس ادارے میں آکر مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ اس ادارے نے مسلمانوں کو وہ تمام سہولتیں اور خدمات فراہم کی ہیں جو کسی دینی ادارے کی ذمہ داری ہوتی ہیں۔ غربا کی مدد، مساکین کی خبرگیری، قوم میں تعلیم کا فروغ، بیماروں کا علاج اور بے سہارا افراد کی مدد، یہی اسلام کا پیغام ہے اور یہ تمام کام اس تاریخی ادارے کے ذریعے انجام دیے جا رہے ہیں۔ اس پر ہم خدا کا جتنا شکر ادا کریں، کم ہے۔

نمائندہ ولی فقیہ ہند کی امارتِ شرعیہ پٹنہ آمد؛رہبرِ معظم کی شہادت نے مسلمانوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا، مقررین

حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حکیم مجید الٰہی نے امت کے درمیان اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کی فضا برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ امارتِ شرعیہ کے اغراض و مقاصد میں وحدت بھی شامل ہے۔ اس فضا کو قائم رکھنا اور اسے مزید ہموار کرنا ہم سب کا اخلاقی فریضہ ہے۔ اس موقع پر مولانا تقی حیدر نے کہا کہ ہمارا اتحاد ہی ہماری قوت بن سکتا ہے اور اس قوت کے حصول کے لیے علما کا متحد ہونا ضروری ہے۔

اس نشست میں نائب ناظمِ امارتِ شرعیہ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، معاون ناظم مولانا احمد حسین قاسمی، معاون ناظم مولانا محمد ابوالکلام شمسی، ڈاکٹر سید یاسر حبیب (سیکریٹری مولانا سجاد میموریل اسپتال)، مولانا ارشد رحمانی (حافظ سیکریٹری)، مولانا محمد شارق رحمانی (معاون آفس سیکریٹری)، مولانا محمد نیاز عالم قاسمی، ایڈووکیٹ جاوید اقبال (ٹرسٹی امارتِ شرعیہ) اور مجلسِ علما و خطبا بہار کے جنرل سیکریٹری مولانا سید امانت حسین سمیت دیگر شخصیات موجود تھیں۔

نمائندہ ولی فقیہ ہند کی امارتِ شرعیہ پٹنہ آمد؛رہبرِ معظم کی شہادت نے مسلمانوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا، مقررین

اس موقع پر شرکا نے امارتِ شرعیہ سے اپنی گہری وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کی خدمات کی جتنی بھی تعریف کی جائے، کم ہے، کیونکہ یہاں مسلک کی بنیاد پر نہیں بلکہ انسانیت کی بنیاد پر مدد کی جاتی ہے۔

چیئرمین شیعہ پرسنل بورڈ جھارکھنڈ مولانا سید تہذیب الحسن رضوی نے بھی امارتِ شرعیہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس ادارے سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ امارتِ شرعیہ ایک ایسا مرکز ہے جو بہار، جھارکھنڈ اور اڑیسہ کے مسلمانوں کو متحد کرکے ایک بڑی طاقت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

شرکا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت نے مسلمانوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ایسی عظیم شہادت ہے جس پر صرف شیعہ ہی اشک بار نہیں ہوئے، بلکہ تمام فرزندانِ توحید نے اپنے غم کا اظہار کیا۔

علمائے کرام نے کہا کہ اتحاد و اتفاق کی جو فضا شہید رہبر کی قربانی کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے، اسے فراموش نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے مزید فروغ دینا چاہیے۔ اسی طرح ہم شہید کو حقیقی خراجِ عقیدت پیش کر سکتے ہیں۔

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے کہا کہ ایران کی کامیابی کے لیے ہر مسلمان دعاگو تھا اور مسلمانوں کی دعاؤں نے ایران کو فتح سے ہمکنار کیا۔

نمائندہ ولی فقیہ ہند کی امارتِ شرعیہ پٹنہ آمد؛رہبرِ معظم کی شہادت نے مسلمانوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا، مقررین

اس موقع پر حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حکیم مجید الٰہی نے شرکاء کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ملتِ اسلامیہ نے صرف دعائیں ہی نہیں کیں، بلکہ ایران کی عملی مدد بھی کی؛ تاہم بعض مسلم ممالک نے اسلام کا ساتھ دینے کے بجائے عیسائیت اور صیہونیت کا ساتھ دیا، جو انتہائی افسوس ناک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کاش مسلمان ان حقائق کو سمجھ لیتے تو آج امتِ مسلمہ بلندیوں پر ہوتی اور غلامی کی زندگی نہ گزار رہی ہوتی۔ اگر مسلمان غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ باطل کے ہاتھوں بک چکے ہیں۔

اگرچہ امیرِ شریعت مولانا فیصل رحمانی اس نشست میں بنفسِ نفیس موجود نہیں تھے، تاہم وہ مسلسل اس کی خبرگیری کر رہے تھے۔

اس موقع پر ناظمِ امارتِ شرعیہ نے کہا کہ ہماری دلی خواہش ہے کہ آپ بار بار اس ادارے میں تشریف لائیں، تاکہ اس سے ایک نئی اور خوش گوار فضا قائم ہو۔

آخر میں دعائیہ کلمات کے ساتھ یہ نشست اختتام پذیر ہوئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha